Pages

Sunday, December 9, 2018

کیا اصحاب کہف کا کتا جنت میں جائے گا؟ اور وہ کون سے دس جانور ہیں جو جنت میں جائیں گے؟


الحمدللہ:

*علم کی کمی کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں بہت سی بے بنیاد اور جھوٹی باتیں ایسی پھیلی ہوئی ہیں کہ بار بار ان جھوٹی باتوں کو سن کر اب لوگ انکو سچ سمجھنے لگ گئے ہیں،انہیں جھوٹی باتوں میں سے ایک یہ بات بھی  لوگوں میں بعض غیر معتبر کتابوں میں مذکور ہونے کی وجہ سے مشہور ہوگئی ہے کہ دس قسم کے جانور جنت میں جائیں گے،ان کے نام مندرجہ ذیل ہیں*

1-حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی
2-حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی
3-حضرت ابراہیم علیہ السلام کا بچھڑا
4-حضرت اسماعیل علیہ السلام کا مینڈھا
5-حضرت موسی علیہ السلام کی گائے
6-حضرت یونس علیہ السلام کی مچھلی
7-حضرت عزیز علیہ السلام کا گدھا
8-حضرت سلمان علیہ السلام کی چیونٹی
9-سلیمان علیہ السلام کا ہد ہد
10-اصحاب کہف کا کتا

*کسی بھی صحیح دلیل سے ثابت نہیں ہے کہ دنیاکے یہ مذکورہ حیوانات جنت میں ہوں گے ۔ اس لئے ہم یہ نہیں کہہ سکتے ہیں کہ فلاں فلاں جانور جنت میں جائے گا*

*بلکہ دنیا کے جو جانور ہیں ان میں سے کسی کے بارے میں بھی کسی صحیح حدیث میں جنت میں جانے کا ذکر نہیں ملتا، بلکہ صحیح حدیث میں بیان ہوا ہے کہ دنیا کے چوپائے اور پرندے کل قیامت میں سب مٹى ہوجائیں گے*

🌹عن أبي هريرةَ قال إنَّ اللهَ يحشرُ الخلقَ كلَّهم كلَّ دابةٍ وطائرٍ وإنسانٍ يقول للبهائم والطيرِ كونوا ترابًا فعند ذلك يقول الكافرُ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ تُرَابًا۔
(السلسلة الصحيحة: 4/607)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالی (قیامت کے دن) تمام مخلوق ، پورے جانور، پرندے اور انسان کو جمع کرے گا۔ چوپائے اور پرندے سے کہے گا کہ مٹی ہوجاؤ۔ تو اس وقت کافر کہے گا اے کاش! میں بھی مٹی ہوجاتا۔

*اس حدیث سے پتا چلا کہ دنیا کا کوئی حیوان ،جانور پرندہ جنت میں نہیں جائے گا،بلکہ سب قیامت کے دن مٹی ہو جائیں گے*

*جنت کے چند حیوانات :*

البتہ کچھ روایات کی روشنی میں چند قسم کے حیوانات جنت میں ہوں گےاس کا ثبوت ملتاہے ۔ ان میں پرندہ،بیل ،بکری ،اونٹنی اور گھوڑا وغیرہ ہیں

(1) پرندہ كے جنت میں ہونے کی دلیل :

🌹اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا:
وَلَحْمِ طَيْرٍ مِّمَّا يَشْتَهُونَ
(الواقعة: 21)
ترجمہ:اور چڑیا کا گوشت جس کو وہ پسند کریں گے
اور
صحیح مسلم میں ہےکہ شہیدوں کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں اور جنت میں جس جگہ چاہیں چرتی چگتی اڑتی پھرتی ہیں۔

🌹فرمانِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
أرواحُهم في جوفِ طيرٍ خُضرٍ . لها قناديلُ مُعلَّقةٌ بالعرشِ . تسرحُ من الجنةِ حيث شاءت ثم تأوي إلى تلك القناديلِ
(صحیح مسلم:1887)
ترجمہ: ان (شہیدوں) کی روحیں سبز رنگ کے پرندوں کے قالب میں ہیں، ان کے لئے قندیلیں ہیں جو عرش سے لٹک رہی ہیں ۔وہ روحیں بہشت میں سے جہاں سے ان کا جی چاہتا ہے میوے کھاتی ہیں پھر ان قندیلوں میں جا کر بسیرا کرتی ہیں۔

(2) جنتیوں کی غذا میں بیل کا گوشت:

🌹مسلم شریف کی لمبی حدیث کا ایک ٹکرا ہے :
يُنْحَرُ لهم ثُوْرُ الجَنَّةِ الذي كانَ يَأْكُلُ مَنْ أَطرافِها (صحيح مسلم: 315)
ترجمہ :نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: جنتیوں کے لیے جنت میں چرنے والا بیل ذبح کیا جائے گا (جس کاگوشت انھیں کھلایا جائے گا)۔

(3) جنت میں بکری :
🌹عن أبي هريرة رضي الله عنها قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : صلوا في مراح الغنم وامسحوا رغامها فإنها من دواب الجنة ۔
(صحيح الجامع:3789)
ترجمہ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: تم لوگ بکری کے ٹھکانے میں نماز پڑھو اور اسکی (ناک سے بہنے والی) مٹی صاف کر دو کیونکہ یہ جنت کے حیوانات میں سے ہیں۔

(4)جنت کی اونٹنی:جنت میں اونٹنی بھی ہوگی۔
🌹عن أبي مسعود الأنصاري قال : جاء رجل بناقة مخطومة فقال : هذه في سبيل الله ، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لك بها يوم القيامة سبع مائة ناقة كلها مخطومة .
(رواه مسلم :1892 ) .
ترجمہ : حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ایک آدمی مہار والی اونٹنی لیکر آیا اور کہا یہ اللہ کی راہ میں ہے ۔ تو اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اس کے سبب تمہارے لئے قیامت کے دن اسی طرح مہار والی سات سو اونٹنیاں ہونگی۔

(5) جنتیوں کی سواری سرخ ہیروں والے گھوڑے :
🌹عن سليمان بن بريدة عن أبيه أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم فقال : يا رسول الله هل في الجنة من خيل ؟ قال : إنِ اللهُ أدخلك الجنة فلا تشاء أن تحمل فيها على فرس من ياقوتة حمراء يطير بك في الجنة حيث شئت ، قال : وسأله رجل فقال يا رسول الله هل في الجنة من إبل ؟ قال : فلم يقل له مثل ما قال لصاحبه ، قال : إن يدخلك الله الجنة يكن لك فيها ما اشتهت نفسك ولذت عينك
.(رواه الترمذي : 2543 )
ترجمہ :حضرت سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ کیا جنت میں گھوڑے ہوں گے؟ تو آپ نے فرمایا:
اگر تمھیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا تو اگر تم چاہوگے کہ سرخ ہیروں والے گھوڑے پر تمھیں سوار کیا جائے اور وہ جنت میں تمھیں لے کر جہاں تم چاہو اڑے تو ایسا ضرور ہوگا۔ پھر ایک شخص نے کہا: یا رسول اللہ! کیا جنت میں اونٹ بھی ہوں گے؟ تو آپ نے اسے اس طرح جواب نہ دیا جیسے پہلے شخص کو دیا تھا۔ تاہم آپ نے فرمایا: اگر تمھیں اللہ تعالیٰ نے جنت میں داخل کیا تو اس میں تمھیں وہ سب کچھ ملےگا جس کی خواہش تمہارا نفس کرےگا اور جس سے تمہاری آنکھوں کو لذت ملےگی۔
٭ اسے شیخ البانی ؒ نے حسن لغیرہ قرار دیا ہے ۔ (صحيح الترغيب: 3756)

*قابل ذکر ایک اہم بات :*
*یہاں ایک اہم بات یہ جان لینا بھی ضروری ہے کہ اوپر جن جانورکا بیان ہوا ہے کہ یہ جنت میں ہوں گے ان کے متعلق آپ نے یہ عقیدہ رکھنا ہے کہ ان حیوانات کے صرف نام دنیاوی ہیں مگر دنیا جیسے نہیں ہوں گے۔ ان کی کیفیت جنت میں کیا ہوگی یہ صرف اللہ کو معلوم ہے*

(واللہ تعالیٰ اعلم باالصواب)


*الفرقان اسلامک میسج سروس*
                   

آفیشل ویب سائٹ
http://alfurqan.info/


آفیشل فیسبک پیج//
https://www.facebook.com/Alfurqan.sms.service2

Thursday, February 2, 2017

إني قد غفرت لهم ما خلا الظالم

 ( أن النبي صلى الله عليه وسلم دعا لأمته عشية عرفة بالمغفرة، فأجيب: إني قد غفرت لهم ما خلا الظالم، فإني آخذ للمظلوم منه، قال: أي رب إن شئت أعطيت المظلوم من الجنة، وغفرت للظالم فلم يجب عشيته، فلما أصبح بالمزدلفة أعاد الدعاء، فأجيب إلى ما سأل، قال: فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم أو قال: تبسم فقال له أبو بكر وعمر: بأبي أنت وأمي إن هذه لساعة ما كنت تضحك فيها فما الذي أضحكك؟ أضحك الله سنك! قال: إن عدو الله إبليس لما علم أن الله عز وجل قد استجاب دعائي وغفر لأمتي أخذ التراب فجعل يحثوه على رأسه ويدعو بالويل والثبور، فأضحكني ما رأيت من جزعه ). 

[162]ضعيف ابن ماجة برقم برقم 651.

حديث مشهور في فضل عفو المسلم عن أخيه المسلم ، لا يصح سنده .

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْه ُ، قَالَ: " بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ ، إِذْ رَأَيْنَاهُ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ 
قَالَ: ( رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي جَثَيَا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعِزَّةِ ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَبِّ خُذْ لِي مَظْلِمَتِي مِنْ أَخِي ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلطَّالِبِ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِأَخِيكِ وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ؟ قَالَ: يَا رَبِّ فَلْيَحْمِلْ مِنْ أَوْزَارِي ) ؟!
قَالَ: وَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُكَاءِ ، ثُمَّ قَالَ: 
( إِنَّ ذَاكَ الْيَوْمَ عَظِيمٌ ، يَحْتَاجُ النَّاسُ أَنْ يُحْمَلَ عَنْهُمْ مِنْ أَوْزَارِهِمْ ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلطَّالِبِ : ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ فِي الْجِنَانِ ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرَى مَدَائِنَ مِنْ ذَهَبٍ وَقُصُورًا مِنْ ذَهَبً مُكَلَّلَةً بِالُّلؤْلُؤِ ؛ لِأَيِّ نَبِيٍّ هَذَا ؟ أَوْ لِأَيِّ صِدِّيقٍ هَذَا ؟ أَوْ لِأَيِّ شَهِيدٍ هَذَا ؟ 
قَالَ: هَذَا لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ !!
قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْ يَمْلِكُ ذَلِكَ ؟ 
قَالَ: أَنْتَ تَمْلِكُهُ ، قَالَ: بِمَاذَا؟ قَالَ: بِعَفْوِكَ عَنْ أَخِيكَ ، قَالَ: يَا رَبِّ فَإِنِّي قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَخُذْ بِيَدِ أَخِيكَ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ) . 
فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: (اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُصْلِحُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ) " .

وهذا إسناد ضعيف جدا ، عباد بن شيبة : قال ابن حبان : " مُنكر الْحَدِيث جدا عَلَى قلَّة رِوَايَته ، لَا يَجُوز الِاحْتِجَاج بِهِ ، لما انْفَرد بِهِ من الْمَنَاكِير ".
ينظر : "كتاب المجروحين" (2/ 171) . 

Thursday, January 28, 2016

سترہ کی مقدار

مُؤخِرَةِ الرَّحلِ"""یا """ آخِرَةِ الرَّحلِ""" کی اونچائی ایک متوسط قد کاٹھ کے آدمی کی """ذِراع """ یعنی """کلائی سے کہنی تک کی ہڈی کے برابر بتائی جاتی ہے ،  پس اس اونچائی سے چھوٹی کوئی چیز سُترہ کا کام نہیں دے سکتی ،
::::: اسی طرح نمازی کا اپنے سامنے خط کھینچنا ، یعنی نمازی کا اپنے سامنے لائن لگانا بھی سُترے کا م نہیں دیتا ،  اس کا ذکر ایک روایت میں ہوا ہے جس سے بعض لوگ  نمازی کے سامنے لائن لگانے کو سُترہ کے طور پر درست سمجھتے ہیں ، لیکن وہ روایت ضعیف یعنی کمزور ہے اور ناقابل حجت ہے ،

Wednesday, January 27, 2016

معني وهو معكم أينما كنتم


فالمعية في لغة العرب لا يلزم منها الاختلاط والممازجة ، فالعرب تقول : ما زلنا نسير والقمر معنا ، والنجم معنا . مع أن القمر في السماء ، وليس على الأرض ، وهو أسلوب عربي صحيح ، ولا يفهم أحد منه أن القمر صار معنا على الأرض .
فإذا جاز في المخلوقات أن تقول : إن القمر معنا ، وهو في السماء ، ففي الخالق سبحانه وتعالى من باب أولى .
قال شيخ الإسلام ابن تيمية 
“وقد أجمع سلف الأمة على أنه سبحانه فوق العرش ، وأنه معنا ، وأن ذلك حق على حقيقته، لا يحتاج إلى تحريف ، ولكن 
يصان عن الظنون الكاذبة . [يعني بالظنون الكاذبة أن يفهم من هذا أنه سبحانه مختلط بالخلق] . 
وليس معنى قوله : (وهو معكم أينما كنتم) أنه مختلط بالخلق ، فإن هذا لا توجبه اللغة ، وهو خلاف ما أجمع عليه سلف الأمة ، وخلاف ما فطر الله عليه الخلق ، بل القمر آية من آيات الله ، من أصغر مخلوقاته ، وهو موضوع فى السماء ، وهو مع المسافر أينما كان” انتهى من “مجموع الفتاوى” (3/199-200) . 

Thursday, November 19, 2015

مطالعة كتب أهل الكتاب من أجل الدعوة


الراسخون في العلم الذين يستعملون هذه الكتب في مجادلة اليهود والنصارى ، وإقامة الحجة عليهم
ففي هذه الحالة : خوف الفتنة انتفى ، لأن عند الراسخ في العلم من المقدرة ما يؤهله إلى معرفة الباطل الذي أدخل في هذه الكتب ، والحذر منه ، ورده والتحذير منه أيضا ، مع ما في مجادلته لأهل الكتاب ورد باطلهم من المصلحة الشرعية المطلوب تحصيلها
ولهذا تتابع أهل العلم على استعمال هذه الكتب في محاججة اليهود والنصارى ، ومن أشهر من رد على اليهود والنصارى من خلال كتبهم : ابن تيمية في كتابه " الجواب الصحيح لمن بدل دين المسيح " ، و ابن القيم في كتابه " هداية الحيارى في أجوبة اليهود والنصارى " ، وابن حزم في كتابه " الفصل في الملل والأهواء والنحل " ، والقرطبي في كتابه " الإعلام بما في دين النصارى من الفساد والأوهام " ، وغيرهم كثير

Thursday, October 29, 2015

أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم هل هذا الحديث صحيح ؟

السؤال: أصحابي كالنجوم بأيهم اقتديتم اهتديتم ، هل هذا الحديث صحيح ؟
 قال الألباني في "السلسلة الضعيفة" (58) : " موضوع   

قال الإمام ابن حزم رحمه الله في بيان بطلان هذا الحديث متنا :
" من المحال أن يأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم باتباع كل قائل من الصحابة رضي الله عنهم ، وفيهم من يحلل الشيء وغيره منهم يحرمه ، ولو كان ذلك لكان بيع الخمر حلالا اقتداء بسمرة بن جندب ، ولكان أكل البرَد للصائم حلالا اقتداء بأبي طلحة وحراما اقتداء بغيره منهم ، ولكان ترك الغسل من الإكسال واجبا اقتداء بعلي وعثمان وطلحة وأبي أيوب وأبي بن كعب ، وحراما اقتداء بعائشة وابن عمر ، ولكان بيع الثمر قبل ظهور الطيب فيها حلالا اقتداء بعمر ، حراما اقتداء بغيره منهم ، وكل هذا مروي عندنا بالأسانيد الصحيحة " انتهى . "الإحكام" (6 /244) .

Monday, February 2, 2015

أسألك وأتوجه اليك بنبيك محمد نبي الرحمة

قال شيخ الاسلام ابن تيمية رحمه الله في حكم التوسل بالرسول صلى الله عليه وسلم: (والثاني: السؤال به، فهذا يجوزه طائفة من الناس، ونقل في ذلك آثار من بعض السلف، وهو موجود في دعاء كثير من الناس، لكنّ ما روي عن النبي صلى الله عليه وسلم في ذلك كله ضعيفٌ بل موضوع.وليس عنه حديث ثابت قد يظن ان لهم فيه حجة، الا حديث الأعمى الذي علمه ان يقول «أسألك وأتوجه اليك بنبيك محمد نبي الرحمة»، وحديث الأعمى لا حجة لهم فيه، فانه صريح في أنه انما توسل بدعاء النبي صلى الله عليه وسلم وشفاعته، وهو طلب من النبي صلى الله عليه وسلم الدعاء، وقد أمره النبي صلى الله عليه وسلم ان يقول: «اللهم شفعه فيّ»، ولهذا رد الله عليه بصره لما دعا له النبي صلى الله عليه وسلم، وكان ذلك مما يعد من آيات النبي صلى الله عليه وسلم.ولو توسل غيره من العميان الذين لم يدعُ لهم النبي صلى الله عليه وسلم بالسؤال به لم تكن حالهم كحاله).[كتاب: قاعدة جليلة في التوسل والوسيلة، طبعة رئاسة الافتاء].

Thursday, December 25, 2014

موسم سرما مومن کے لیے موسم بہار ہے

ابھی سردی کا موسم ہے، موسم سرما سے متعلق ایک مومن کا موقف کیا ہونا چاہئے اس سے عام طور پر لوگ غفلت میں ہیں، اس لیے موسم سرما کی مناسبت سے بھلائی کے چاہنے والے مسلمانوں بھائیوں کے لئے کچھ باتیں پیش کی جا رہی ہیں۔

Thursday, April 24, 2014

مؤرخ اہل حدیث:مولانا محمد اسحاق بھٹّی


تحریر : محمد انور محمد قاسم سلفی

دور حاضر میں اگر تاریخ نویسی اور خاکہ نگاری کے متعلق بات کی جائے تو یہ ناممکن ہے کہ اس تعلق سے محترم مولانا محمد اسحاق بھٹّی حفظہ اﷲ کا تذکرہ نہ ہو ،حقیقت یہ ہے کہ بھٹّی صاحب نے اپنی شگفتہ تحریر اور جادو بیانی سے اس فن کو تازگی اور اس فکر کو بالیدگی عطا فرمائی ہے، بلا مبالغہ یہ کہا جاسکتا ہے سارے بر صغیر ہند وپاک میں گرچہ کہ خاکہ نگار بے شمار ہیں ، لیکن مولانا محمد اسحاق بھٹّی صاحب کی بات ہی کچھ اور ہے :

Thursday, January 30, 2014